لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ چند لاکھ روپے سے جانوں کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کاہنہ بستی عیدگاہ کا دورہ کیا اور دو روز قبل پیش آنے والے المناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ متاثرہ والدین سے ملاقات کے بعد ان کا دکھ مزید بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز آج علاقے میں آئیں تو ٹریکٹر چلا کر سڑک کو عارضی طور پر درست کیا گیا حالانکہ یہ بھی لاہور کا حصہ ہے جسے مسلسل نظر انداز کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اشتہارات تو چلائے جاتے ہیں مگر بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ بچوں کو جب اسپتال منتقل کیا گیا تو وہاں صرف دو ڈاکٹر موجود تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کم تنخواہوں پر اساتذہ بھرتی کرکے قوم کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف کا حلقہ ہے، اس کے باوجود علاقے کی حالت انتہائی خراب ہے، ان کے مطابق غریب عوام کی آواز نہیں سنی جاتی، انہیں نہ معیاری تعلیم میسر ہے نہ مناسب سڑکیں جبکہ ایسے مسائل صرف کاہنہ بستی تک محدود نہیں بلکہ کئی دیگر علاقے بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں، وہ کروڑوں روپے دے کر بھی واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو چند لاکھ روپے دے کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ حکومت کو علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کی مستقل معاونت کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سانحے کے اصل ذمہ داروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی سڑکوں کی حالت ایسی تھی کہ ایمبولینسیں موقع پر نہیں پہنچ سکیں، جس کے باعث والدین اپنے زخمی بچوں کو موٹر سائیکلوں پر اسپتال لے جانے پر مجبور ہوئے جبکہ متعدد بچے راستے ہی میں دم توڑ گئے۔
معروف عالم دین ناصر مدنی مسجد میں خطاب کرتے ہوئے اچانک گر گئے ، تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ سوال یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو بھی کیا معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے، ان کے مطابق پنجاب میں متعدد سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں نہ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی معیاری تعلیمی سہولیات۔
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تشہیری مہم پر توجہ دی جا رہی ہے جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
