وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے ڈھائی روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا ہے، تاہم عوام پر مجموعی مالی بوجھ بڑھنے سے بچانے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اسی تناسب سے ڈھائی روپے فی لیٹر کمی بھی کر دی گئی ہے۔
وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافے اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کا اطلاق 2 جولائی سے ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس ردوبدل کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں کو برقرار رکھنا ہے تاکہ صارفین کو فی الحال قیمتوں میں اضافے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومت نے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
نوٹیفکیشن کے مطابق کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ماحولیاتی بہتری، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور ماحول دوست اقدامات کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے مقصد سے نافذ کیا گیا ہے۔ اب اس لیوی کی شرح بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ اسی کے ساتھ پیٹرولیم لیوی میں ڈھائی روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے تاکہ دونوں اقدامات ایک دوسرے کو متوازن رکھ سکیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں فوری طور پر کوئی اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافے کا اثر پیٹرولیم لیوی میں کی جانے والی کمی سے پورا کر دیا گیا ہے۔ اس طرح صارفین موجودہ قیمتوں پر ہی پیٹرول اور ڈیزل خرید سکیں گے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پہلے ہی بڑی کمی کی جا چکی ہے، وزیر پیٹرولیم
ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے لیویز کے ڈھانچے میں یہ تبدیلی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات کے نظام کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی مالیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیویز کی شرح میں ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم عوام کے لیے اہم بات یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات سستی کرنے پر حکومت اور آئل کمپنیوں میں اختلافات بڑھ گئے
واضح رہے کہ حکومت ہر ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور ٹیکسوں و لیویز کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہے۔
