گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے پٹرولیم مصنوعات اور کرایوں میں اضافے کے باعث مہنگائی ہماری توقعات سے زیادہ رہی۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ زراعت اور صنعتی شعبوں میں نمایاں بہتری ہے۔
گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اگرچہ پٹرولیم مصنوعات اور کرایوں میں اضافے کے باعث مہنگائی ہماری توقعات سے زیادہ رہی، تاہم جون میں یہ 11 فیصد پر آچکی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے سخت اقدامات اور پابندیوں کے ذریعے 2022 کے بھاری کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اب سرپلس میں تبدیل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی بار تبدیلیاں کی گئیں۔ جنگ کے آغاز پر حکومت نے مارچ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا۔ اپریل میں مزید اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 458.40 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ اپریل کے وسط میں وزیرِاعظم نے قیمتوں میں جزوی کمی کا اعلان کیا۔
جون کے آخری ہفتے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67.30 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کا اعلان کیا۔ اس بڑی کمی کے بعد فی الحال حکومت نے قیمتیں برقرار رکھی ہیں، جس کے تحت پیٹرول 299.50 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 311.47 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ رواں سال زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالرز سے زائد پر بند ہو رہے ہیں، جس میں 5 ارب ڈالرز کا اضافہ شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 5 ارب ڈالرز کے بیرونی قرضے بھی ادا کیے ہیں۔ حوالہ ہنڈی کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایکسچینج کمپنیوں کے سخت قوانین نے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
