ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی نماز جنازہ کیلئے انتظامات کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت گرینڈ مصلیٰ پہنچا دی گئی ہے،اس موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کل تہران میں ادا کی جائے گی جس کے بعد ان کا جسد خاکی تہران سے قم پھرنجف اورکربلا لے جایا جائے گا۔
ایران کو 3 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا، عرب میڈیا کادعویٰ
پھر میت واپس ایران لا کر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا ،جلوس جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔آخری رسومات کے موقع پر 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی،8 جولائی کو ملک بھر میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کابینہ کے اہم وزرا کے ساتھ آج ایران جائیں گے جہاں وہ شہید سپریم لیڈرکی نماز جنازہ میں شرکت کے ساتھ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کرکے تعزیت کا اظہار کریں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی رحلت پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک شخصیت کی جدائی نہیں بلکہ ایک ایسے دور کا اختتام ہے جس نے امت کو استقامت، مزاحمت اور خوداعتمادی کا درس دیا۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ مایوسی کا نہیں بلکہ اتحاد، قومی یکجہتی اور ترقی کے ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی قوم ہر مشکل کا پہلے سے زیادہ مضبوطی اور یکجہتی کے ساتھ مقابلہ کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آخری رسومات میں بھرپور شرکت کر کے قومی اتحاد اور یکجہتی کا عملی ثبوت دیں۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے انقلاب اسکوائر میں آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب ایک علامتی مٹھی نصب کر دی گئی ہے، جسے آخری رسومات کی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں بھی سوگ کی فضا ہے اور سرکاری و عوامی سطح پر تعزیتی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای جو تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، 28 فروری 2026 کو تہران میں ہونے والے ایک بڑے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ ایرانی حکومت نے یکم مارچ 2026 کو سرکاری طور پر ان کی شہادت کی تصدیق کی۔ یہ حملہ ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کے پہلے روز کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کا ہدف تہران میں سپریم لیڈر کے دفتر اور دیگر اہم حکومتی و عسکری مراکز تھے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق کارروائی میں انتہائی درست معلومات اور جدید ہتھیار استعمال کیے گئے جب کہ ایران نے اسے اپنی قیادت کو نشانہ بنانے کی منظم کارروائی قرار دیا۔ اس حملے میں خامنہ ای کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی اور حکومتی عہدیدار بھی شہید ہوئے۔
یکم مارچ کی صبح حکومت نے ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے ملک بھر میں سرکاری سوگ کا اعلان کیا۔ بعد ازاں ایران کی اعلیٰ قیادت نے اس حملے کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرایا اور سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا۔
خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں قیادت کی منتقلی کا عمل شروع ہوا اور ماہرین کی مجلس نے ان کے صاحبزادے، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ اس دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی اور خطے میں سلامتی کی صورتحال شدید متاثر ہوئی۔ خامنہ ای کی آخری رسومات فوری طور پر انجام نہیں دی جا سکیں کیونکہ جنگی صورتحال برقرار تھی۔
