اسلام آباد، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں غذائی تحفظ، پبلک سیکٹر اصلاحات اور درآمدی پالیسی سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کی 8 ہزار 197 اعشاریہ 989 میٹرک ٹن گندم اوپن مارکیٹ میں نیلام کرنے کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے ہدایت کی کہ گندم کی نیلامی مکمل طور پر کھلے، شفاف اور مسابقتی عمل کے تحت کی جائے گی، جبکہ اس پورے عمل کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی لازمی ہوگی تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاسکو کے اہل ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورینس پیکیج کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ رقم اہل ملازمین کو معاوضے، ریٹائرمنٹ اور دیگر ٹرمینل فوائد کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے گی، تاکہ ادارے کی تنظیم نو کے عمل کو بہتر انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے میں امن اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
اجلاس میں قائداعظم یونیورسٹی کے مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا، ای سی سی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مالیاتی استحکام کے لیے آزاد معاشی ماہرین کی خدمات حاصل کرے اور ایک قابل عمل مالیاتی منصوبہ تیار کرے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی بھی منظوری دی، جس کے تحت پالیسی میں جبری مشقت (Forced Labour) کی تعریف شامل کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی لیبر کنونشنز اور عالمی قوانین سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، تاکہ پاکستان کی تجارتی اور لیبر پالیسیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔
ای سی سی کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ معاشی اصلاحات، شفافیت، ادارہ جاتی بہتری اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے حکومتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
