اسلام آباد: نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک بھر میں جیل نظام میں جامع اور دیرپا اصلاحات کے لیے مشترکہ قومی عزم کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق کانفرنس میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں، ناکافی سہولیات اور زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر کی توثیق کی کہ آزادی سے محروم تمام افراد کے آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خواتین، بچوں، معذور افراد اور معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کی غیر ضروری قید کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ضمانت، قانونی امداد، پروبیشن اور پیرول کے نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ گرفتاری، حراست، سزا، جیل انتظامیہ اور پیرول سے متعلق موجودہ قوانین کا جامع جائزہ لیا جائے گا تاکہ انہیں جدید تقاضوں اور انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

شرکاء نے جیلوں میں انفراسٹرکچر، صفائی، معیاری خوراک، طبی سہولیات اور ذہنی صحت کی خدمات بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، نفسیاتی معاونت اور بحالی کے پروگرامز کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سزا مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اعلامیے کے مطابق رہائی کے بعد سابق قیدیوں کی معاشرے میں مؤثر دوبارہ شمولیت کے لیے ایک جامع نظام تشکیل دیا جائے گا، جبکہ پولیس، عدلیہ، استغاثہ، جیل حکام اور قانونی امدادی اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

کانفرنس میں مقدمات کے جلد فیصلے اور انصاف تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر صوبہ جیل اصلاحات کے لیے واضح ٹائم لائن کے ساتھ عملدرآمد کا منصوبہ تیار کرے گا، جبکہ اصلاحات پر پیش رفت، قیدیوں کی تعداد میں کمی اور بحالی کے اقدامات سے متعلق باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
نظام انصاف میں بہتری عدالتی فیصلوں سے نہیں ان پر مؤثر عملدرآمد سے ممکن ہے، چیف جسٹس
اعلامیے میں جیل اصلاحات کو محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری، انسانی حقوق کے تحفظ اور عوامی سلامتی کا بنیادی تقاضا قرار دیا گیا۔ کانفرنس میں شریک چاروں وزرائے اعلیٰ نے انسانی وقار، قانون کی حکمرانی اور اصلاحی اصولوں پر مبنی جدید جیل نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
