امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہیں، جہاں قطر اور پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ دونوں ممالک کے نمائندے بدھ کے روز ہونے والے ان مذاکرات میں شریک ہیں، تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی نمائند اسٹیو وٹکوف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ان تکنیکی بات چیت میں براہ راست حصہ نہیں لے رہے۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے، جہاں وائٹ ہاؤس کے مطابق اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع تھے۔ تاہم ایران اور قطر نے واضح کیا کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی بلکہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے منگل کے روز قطر کے وزیر اعظم سے ملاقات کی، جس کا مقصد بدھ کو ہونے والے مذاکرات کے لیے ابتدائی بنیاد فراہم کرنا تھا۔
مذاکرات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، دونوں صورتوں میں امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر بات چیت ناکام بھی ہو جائے تو بھی ایران کے مقابلے میں امریکا کی پوزیشن زیادہ مضبوط رہے گی۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا فوجی ردعمل دے گا۔
تاہم ایران نے منگل کو براہ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ خطے میں آنے والے امریکی اعلیٰ حکام سے ملاقات نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جو جنگ بندی دو ہفتے قبل طے پائی تھی، اس کی شرائط پر مکمل اتفاق ہونا ابھی باقی ہے، اس کے بعد ہی جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔
