امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، دونوں صورتوں میں امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔
فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر بات چیت ناکام بھی ہو جائے تو بھی ایران کے مقابلے میں امریکا کی پوزیشن زیادہ مضبوط رہے گی۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا فوجی ردعمل دے گا۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایران میں “مستقل نوعیت کی تبدیلی” آئے گی۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے، امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ تہران براہِ راست امن مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔
ایران نے براہِ راست مذاکرات کی تردید کر دی
دوسری جانب ایران نے منگل کو واضح کیا کہ وہ خطے میں آنے والے امریکی اعلیٰ حکام سے ملاقات نہیں کرے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جو جنگ بندی دو ہفتے قبل طے پائی تھی، اس کی شرائط پر مکمل اتفاق ہونا ابھی باقی ہے، اس کے بعد ہی جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔
امریکی وفد دوحہ پہنچ گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے، جہاں وائٹ ہاؤس کے مطابق اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع تھے۔ تاہم ایران اور قطر نے واضح کیا کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی بلکہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکی وفد سے ملاقات کی، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آئندہ چند روز میں امریکی حکام سے کسی بھی سطح پر براہِ راست ملاقات طے نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک عوامی سطح پر سخت اور مختلف مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم پس پردہ سفارتی رابطے اور تکنیکی سطح پر مشاورت کا عمل کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں دوحہ میں متوقع ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات، جوہری مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت کا سبب بن سکتی ہیں، جن پر عالمی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔
