امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے بات چیت جاری ہے۔
ایک تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے، ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دوسری جنگ عظیم کے بعد کا سب سے بڑا حملہ کرنے والا تھا، ایران پرحملے کو ابھی منسوخ کر دیا گیا ہے، میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔
امریکا نے ایران سے منسلک 3 کمپنیوں اور 2 طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کر دیں
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی، آبنائے ہرمز کھلنا پہلا مرحلہ ہے، دوسرے مرحلے میں نیوکلیئر معاملے پر بات ہو گی۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ عمان سے متوقع معاہدے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں، آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے جغرافیائی خصوصیات سے متعلق امور پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ معاہدے کا اعلامیہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اگر تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہوئی تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کا اعلامیہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
امریکا کی رضامندی کے بغیر ایران تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی، ڈونلڈ ٹرمپ
اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان اور قطر کے ساتھ بھی اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گی۔
