امریکی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی اینتھراپک (Anthropic) نے چینی ٹیکنالوجی اور ای کامرس کمپنی علی بابا پر اپنے اے آئی ماڈل کلاؤڈ کی صلاحیتیں غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اس نوعیت کا اس کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔
اینتھراپک کے مطابق علی بابا نے مبینہ طور پر “ڈسٹلیشن” (Distillation) نامی طریقہ استعمال کیا۔ جس میں ایک کمزور یا کم صلاحیت رکھنے والے اے آئی ماڈل کو زیادہ طاقتور ماڈل کے جوابات کی بنیاد پر تربیت دی جاتی ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
کمپنی نے دعویٰ کیا کہ یہ مہم 22 اپریل سے 5 جون 2026 تک جاری رہی۔ جس دوران تقریباً 25 ہزار جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کلاؤڈ کے ساتھ 2 کروڑ 88 لاکھ سے زائد مکالمے کیے گئے۔
اینتھراپک نے 10 جون کو امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ٹم اسکاٹ اور رینکنگ رکن سینیٹر الزبتھ وارن کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا کہ اس کارروائی کا مقصد چین کی جانب سے اینتھراپک کے جدید Mythos Preview ماڈل جیسی صلاحیتوں تک تیزی سے رسائی حاصل کرنا تھا۔
خط میں مزید الزام لگایا گیا کہ یہ سرگرمی علی بابا اور اس کی مصنوعی ذہانت کی ذیلی لیبارٹری کوئن سے وابستہ آپریٹرز نے انجام دی۔ تاہم علی بابا نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کی انتظامیہ میں اہم تبدیلی، بھارت کے کنال شاہ نئے سربراہ مقرر
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی برتری حاصل کرنے کی دوڑ مزید شدت اختیار کر رہی ہے اور اے آئی ماڈلز کے تحفظ اور دانشورانہ ملکیت کے حقوق سے متعلق خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
