چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے چند وزرا ایسے ہیں جو ان کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور وہ وزیر اعظم کی مدد کرنے کے بجائے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں ،ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو حکومت والے لڑانا چاہتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایوان میں اتنی باتیں ہو چکی ہیں کہ اب ان کا جواب دینا ضروری ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں کے ساتھ مثبت رابطے رکھتے ہیں تاہم بعض وزرا کا رویہ ریاستِ پاکستان کے مفاد کے مطابق نہیں۔
بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے وہاں سیاسی حل نکالنے کی کوشش کی لیکن سوال یہ ہے کہ کابینہ میں ایسا وزیر کیوں موجود ہے جو کہتا ہے کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں اور پھر اپنے الفاظ پر قائم بھی رہتا ہے۔
بلاول کا قومی اسمبلی میں 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر کھل کر اظہارخیال
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر دفاع بھی ہیں، اس لیے انہیں ذمہ دارانہ بیانات دینے چاہئیں، جلسوں میں کی جانے والی تقاریر قابل اعتراض ہو سکتی ہیں لیکن وزیر دفاع کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جو کشمیر میں لگی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اسی وزیر نے یہ بھی کہا تھا کہ آزاد کشمیر کی بارہ نشستیں ان کی جیب میں ہیں، جس کے باعث کشمیر میں نشستوں کا معاملہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب مولانا فضل الرحمن نے ثالثی کی کوشش کی ہے تو حکومت کو انہیں موقع دینا چاہیے، پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمن کو ثالثی کا موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
بلاول بھٹو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے ، وزیر اعظم کو اپنی کابینہ کو کنٹرول کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا، جس کی پاسداری ہونی چاہیے۔
گلگت بلتستان میں حکومت سازی پرحمایت،بلاول بھٹو وزیر اعظم کے شکر گزار
بلاول نے کہا کہ حکومت پر تنقید ضرور کی جائے لیکن صرف پیپلز پارٹی کو نشانہ بنانے کے بجائے وزیر اعظم اور ان کے اتحادیوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے جائیں۔ ایم کیو ایم کو صرف ’’لولی پاپ‘‘ دے کر وقت گزار رہی ہے۔
انہوں نے ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس طرزِ سیاست پر نہیں چلنا چاہتے تو حکومت سے علیحدگی اختیار کریں، پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام دیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بلدیاتی نظام نافذ نہیں کر رہی۔
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور آج ہی ایسی ترامیم پیش کی جائیں جن کے ذریعے لاہور اور اسلام آباد کے میئرز کو مکمل اختیارات دیے جائیں۔ حکومت محض وعدوں اور لولی پاپ کے ذریعے اپنا وقت نکال رہی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کسی بھی نئی آئینی ترمیم سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی کامیابی کو دراصل پاکستان کی کامیابی سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت ملک کے مفاد میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔
