سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔
دفتر خا رجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا جبکہ حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ منظور کر لیا گیا ہے۔
مذاکرات کے ایجنڈے میں لبنان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز شامل
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری شروع ہوں گے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے۔
🔊PR No: 1️⃣5️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by the State of Qatar and the Islamic Republic of Pakistan Regarding the Conclusion of Lake Lucerne Summit, First High-Level Committee Meeting with Participation of the United States of America and the Islamic Republic of Iran pic.twitter.com/2G3PAf7LVY
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 22, 2026
اعلامیے کے مطابق لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایٹمی پروگرام، پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس تشکیل دیئے جائیں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق ڈی کنفلیکشن سیل میں لبنان اور ثالث ممالک شامل ہوں گے، ثالث ممالک مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھانے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے، تکنیکی مذاکرات ہفتے کے باقی دنوں میں برگن اسٹاک ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔
ایٹمی پروگرام، پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر بھی اتفاق
قطر اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کی سفارتی کوششوں کو سراہا، اور امید ظاہر کی ہے کہ سفارتی عمل خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بنے گا۔
ایران کیلئے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ، عباس عراقچی
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایران کیلئے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
Tireless Pakistani and Qatari mediation has delivered major progress to end Lebanon War. Oil and petrochem exports are waived, blockade lifted, some frozen assets released, and major reconstruction & development plan launched for Iran.
1st real test: Lebanon deconfliction cell https://t.co/q0okD2qwSO
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 22, 2026
سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی ہے۔
اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے کے آغاز کے لیے مذاکرات کی بنیاد رکھنے پر بات چیت کی گئی۔ بات چیت میں دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے متعلق اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تکنیکی مذاکرات کے موقع پر پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امن مذاکرات کو کامیابی کی جانب لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
.@VP: "I think that @POTUS and the United States of America have done more to stop the conflict in Lebanon than any government anywhere in the world over the last few months, and we're going to keep on working towards it."
"What today really represents is the beginning of a… pic.twitter.com/GCoevmJORl
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 21, 2026
جے ڈی وینس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں۔ اور انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے امن عمل کو اس مرحلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریف
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران ان کا سب سے زیادہ رابطہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رہا۔ جبکہ ان کی قیادت اور سفارتی کاوشوں کے بغیر موجودہ پیش رفت ممکن نہ تھی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود کو نہ صرف ایک بہترین عسکری قائد بلکہ ایک مؤثر سفارت کار کے طور پر بھی منوایا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد مذاکرات میں تعطل
واضح رہے مذاکرات میں تعطل بھی پیدا ہوا جب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے پر تہران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی وارننگ دی۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی کسی بھی مزید کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اپنے سابقہ بیانات کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ممکنہ طور پر ٹرانزٹ فیس بھی عائد کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اپنے بیانات میں محتاط رہے۔ کیونکہ ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ہم امریکی دھمکیوں کو کسی کھاتے میں نہیں لاتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نہیں سوچتے ان کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ ہوتا تو آج ایسے بے بس نہ ہوتے۔ امریکی جتنا مرضی بولیں، یہ ہم ہیں جو عمل کرتے ہیں۔
