تہران: ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد امریکا نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم آبی گزرگاہ میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں اور 17 جون کے معاہدے پر عملدرآمد میں امریکی ناکامی کے باعث آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹ کام نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اور تجارتی جہاز بلا رکاوٹ اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اب تک 55 بحری جہاز تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔ جو اس اہم بحری راستے پر معمول کی سرگرمیوں کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی کی وزیر اعظم کا ٹرمپ کو اپنی مقبولیت پر توجہ دینے کا مشورہ
سینٹ کام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔
