یہامریکا اور ایران کے درمیان معاہدے میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار نے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بھارت کی سفارتی ناکامی قرار دیا۔
بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بھارت خطے کی اہم پیش رفت سے خود کو الگ تھلگ پاتا رہا۔
اپوزیشن نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ جب خطے میں پاکستان ثالثی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے اپنی اہمیت منوا رہا تھا تو بھارت کا کردار کیوں محدود رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ بھارتی حکومت کی خارجہ پالیسی خطے میں مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ
بھارتی جریدے دی ٹریبیون کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا جانا خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عالمی اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے۔
جے رام رمیش کے مطابق معاہدے کو اسلام آباد سے منسوب کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سفارتکاری میں ایک مؤثر کردار کے طور پر ابھر رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے کے اہم معاملات میں ایک قابلِ اعتماد سفارتی شراکت دار کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے۔
بھارتی اخبار بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں اسرائیل کی کارروائیوں کے لیے مودی حکومت کی غیر مشروط حمایت اب خود بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کے باعث بھارت کی سفارتی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور خطے میں اس کے تزویراتی مفادات کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔
بزنس اسٹینڈرڈ نے نشاندہی کی کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں بھارت کی یکطرفہ پالیسی اس کے طویل المدتی قومی مفادات کے خلاف جا سکتی ہے۔
بھارتی سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ گئی ہے کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے، جبکہ بھارت کو اپنی علاقائی حکمتِ عملی اور سفارتی ترجیحات پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار کی ہے بلکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
