امریکی فوج نے آج رات پھر ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، اہواز، چابہار، بندر عباس اور قیشم جزیرے میں دھماکے سنے گئے۔ جس کے جواب میں ایران نے اردن اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملے کئے۔
امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل، ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
سینٹکام کے مطابق بندرِ عباس میں بھی اہداف نشانہ بنائے گئے، حملوں کا مقصد ہدف ایران کی ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے خطرے کی فوجی صلاحیت ہے۔
گورنر ہرمزگان کا کہنا ہے کہ قیشم میں امریکی حملے میں فش پاؤڈر بنانے والی فیکٹری کو نقصان پہنچا، تاہم فیکٹری خالی ہونے کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایران کا امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام، بھرپور جواب کی دھمکی
حالیہ امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجی اور 30 عام ایرانی شہری شہید اور 260 سے زائد ایرانی زخمی ہو چکے۔
ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کی الازرق ائیربیس میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایک مستقل ریڈار سائٹ کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
🔴 Iranian Army announced the targeting of the US military’s communications systems and fuel storage facilities in Jordan during the ninth phase of Operation Saeqeh, in response to enemy aggression.
Follow: https://t.co/mLGcUTS2ei pic.twitter.com/ry31zQAeOb
— Press TV 🔻 (@PressTV) July 16, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی ایران پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی، اس کے علاوہ کویت میں واقع علی السالم ائیربیس پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس نے (C-RAM) ابتدائی وارننگ ریڈار اور امریکی فوجیوں کے جمع ہونے کے مقام کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ آپریشن “نصر 2” کی آٹھویں لہر کے دوران کیا گیا۔
اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے جنوب مغربی شہر اندیمشک کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ ڈرون اس کی ایرو اسپیس فورس کے زیرِ استعمال نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔
