پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ پیشکش صرف بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں۔
اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرگوہرنے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی بات تو کی ہے لیکن آج تک اپوزیشن کی جانب نیک نیتی کیساتھ ہاتھ نہیں بڑھایا گیا اگرحکومت واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو وزیراعظم کو خود آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’’بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘ والا طرزِ عمل نہیں چل سکتا، وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں، ان کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں، اس لیے وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروا سکتے۔
بانی پی ٹی آئی کو رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، شفیع جان
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور کرانے کے لیے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے، صوبائی حکومت کے پاس مضبوط معاشی اور قانونی ٹیم موجود ہے اور انہیں یقین ہے کہ بجٹ کے حوالے سے ایسا فیصلہ کیا جائے گا جس سے صوبے کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے اور اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جس کسی نے بھی خطے میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کیا، وہ قابل تحسین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی جمہوریت، آئین کی بالادستی، معاشی بحالی اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے ایک جامع ’’امن معاہدہ‘‘ ہونا چاہیے۔
