دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ایک اور منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے اور وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی مجموعی دولت میں مزید اضافے کے بعد اس کی مالیت 11 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے ساتھ وہ دولت کے ایک نئے تاریخی سنگِ میل تک پہنچ گئے ہیں۔
یہ غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر اسپیس ایکس کی جانب سے آئی پی او میں ریکارڈ 75 ارب ڈالر جمع کرنے کے بعد سامنے آیا۔ کمپنی کی قدر میں نمایاں اضافے سے ایلون مسک کے حصص کی مالیت بھی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس میں ایلون مسک کے حصص کی مالیت کا تخمینہ 690 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جس نے ان کی مجموعی دولت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید خلائی ٹیکنالوجی اور نجی سرمایہ کاری کے شعبے میں اسپیس ایکس کی تیز رفتار ترقی نے ایلون مسک کی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس کے ابتدائی عوامی حصص (IPO) میں ریکارڈ 75 ارب ڈالر جمع ہونے کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.1 کھرب ڈالر (1.1 ٹریلین) سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس میں ایلون مسک کے حصص کی مالیت تقریباً 866 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ٹیسلا اور دیگر اثاثوں کو شامل کرنے کے بعد ان کی مجموعی دولت 1.1 کھرب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔
54 سالہ ایلون مسک نے اپنی شہرت ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ذریعے حاصل کی، جبکہ 2022 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی 44 ارب ڈالر میں خریداری کے بعد ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔ وہ سیاست، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کمائی کرنیوالوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا
ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس کی بلند ترین قدر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد نے “ایلون پریمیم” کو جنم دیا ہے، جس کے تحت سرمایہ کار روایتی مالیاتی پیمانوں کے بجائے ایلون مسک کے وژن اور قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔
اگرچہ ایلون مسک کو جدید دور کے کامیاب ترین کاروباری رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم ان پر کارپوریٹ گورننس، سیاسی مداخلت اور غیر روایتی طرزِ عمل کے حوالے سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد انہیں جدید دور کا ایک غیر معمولی موجد اور صنعت کار قرار دیتی ہے۔
