اسلام آباد، چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل اور قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں عدالتی اصلاحات، احتساب، مقدمات کے بروقت فیصلوں اور انصاف کی مؤثر فراہمی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ججوں کے ضابطۂ اخلاق میں بعض ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق کونسل نے اپنے طریقہ کار اور ضابطہ کار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار کیے گئے مسودۂ قواعد کا بھی جائزہ لیا، تاہم اس معاملے پر مزید غور و خوض کے لیے فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔

اجلاس میں ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کونسل کے بعض ارکان کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کونسل نے مختلف ججز کے خلاف دائر 10 شکایات نمٹا دیں۔ اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے شرکت کی۔
سپریم کورٹ نے ہرجانہ کیس میں عمران خان کا حق دفاع بحال کردیا
دوسری جانب قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں لاہور، سندھ، پشاور اور اسلام آباد ہائیکورٹس کے نمائندہ ججز شریک ہوئے جبکہ سیکریٹری قانون اور چیئرمین ایچ سی سی نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔ کمیٹی نے عدالتی نظام کی استعداد کار بڑھانے اور انصاف کی مؤثر فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری قانون نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت لاپتہ افراد کے مقدمات کے لیے ایک علیحدہ کمیشن قائم کرنے پر متفق ہو گئی ہے۔
مجوزہ کمیشن میں جسٹس (ر) منظور اے ملک اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا شامل ہوں گی۔ کمیشن گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنے سے متعلق قانونی تقاضوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ مجوزہ کمیشن کے قواعد و ضوابط آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2025 سے 31 مئی 2026 تک ملک بھر کی ضلعی عدالتوں نے مجموعی طور پر 13 لاکھ 19 ہزار 390 مقدمات نمٹائے۔ لاہور ہائیکورٹ کے ماتحت ضلعی عدالتوں نے سب سے زیادہ 10 لاکھ 65 ہزار 375 مقدمات کا فیصلہ کیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے ماتحت عدالتوں نے ایک لاکھ 23 ہزار 51، سندھ ہائیکورٹ کے ماتحت عدالتوں نے 87 ہزار 219، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ماتحت عدالتوں نے 27 ہزار 465 جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ماتحت عدالتوں نے 16 ہزار 280 مقدمات نمٹائے۔
مزید بتایا گیا کہ ماڈل سول کورٹس نے 16 مارچ سے 31 مئی 2026 تک 8 ہزار 526 جبکہ ماڈل کرمنل کورٹس نے اسی عرصے کے دوران 16 ہزار 566 مقدمات کے فیصلے کیے۔
اجلاس میں بینکاری مقدمات کے جلد اور کم لاگت فیصلوں کے لیے اہم انتظامی اقدامات کی منظوری بھی دی گئی۔ کمیٹی نے زیر التوا مقدمات میں کمی لانے کے لیے ضرورت کے مطابق اضافی بینکنگ کورٹس کے قیام پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔
بینکنگ عدالتوں کو حکم امتناع سے متعلق قانونی دفعات پر سختی سے عملدرآمد اور غیر سنجیدہ مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے اخراجات سے متعلق قوانین کے مؤثر نفاذ کی ہدایت بھی کی گئی۔
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ضلعی عدلیہ میں 6 روزہ ورکنگ ویک بحال کرنے کی منظوری دیتے ہوئے جوڈیشل افسران کی خالی آسامیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوڈیشل افسران کو تعریفی اسناد دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے بائیو میٹرک تصدیق کے مؤثر نظام کے قیام پر لاہور ہائیکورٹ کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ اس حوالے سے تیار کردہ ایس او پیز دیگر ہائیکورٹس کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں تاکہ عدالتی نظام میں شفافیت اور سکیورٹی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس کے شرکا نے عدالتی اصلاحات اور انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
