بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں ایک افسوسناک اور پراسرار واقعہ پیش آیا ہے جہاں آم کھانے کے بعد ایک 17 سالہ لڑکی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ اس کے اہلخانہ کی طبیعت بھی اچانک خراب ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متوفیہ لڑکی کی شناخت بھونیشوری کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنی والدہ اور بہنوں کے ہمراہ گھر میں آم کھانے کے بعد شدید بیمار ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ آم خاندان کی ایک رشتہ دار رینوکا نارائن خرید کر لائی تھیں، جنہیں بعد ازاں گھر میں اہلخانہ نے استعمال کیا۔
بھارت میں پراسرار بیماری پھیل گئی، لوگ گنجے ہونے لگے
رپورٹس کے مطابق آم کھانے کے کچھ ہی وقت بعد گھر میں موجود افراد کو متلی، قے اور دست کی شکایات شروع ہو گئیں۔ ابتدا میں اہلخانہ نے اسے معمولی طبیعت کی خرابی سمجھا، تاہم حالت بگڑنے پر تمام متاثرہ افراد کو فوری طور پر کاچی گوڑہ کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی گئی۔
ڈاکٹروں نے متاثرہ افراد کا علاج شروع کیا، تاہم 17 سالہ بھونیشوری کی حالت تشویشناک رہی اور وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکی۔ دوسری جانب خاندان کے دیگر افراد کی حالت میں بتدریج بہتری آنے کے بعد انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام بھی اسپتال پہنچ گئے۔ پولیس نے متاثرہ خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ممبئی میں بریانی کے بعد تربوز کھانے سے پورے خاندان کی موت ، فرانزک رپورٹ میں اہم انکشاف
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا آم کسی قسم کی آلودگی، زہریلے کیمیکل یا خراب ہونے کے باعث صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے یا معاملے کے پیچھے کوئی اور وجہ موجود ہے۔ مزید شواہد کے لیے آموں کے نمونے بھی لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں ماضی میں بھی کھانے پینے کی مختلف اشیاء استعمال کرنے کے بعد اجتماعی طور پر افراد کے بیمار ہونے اور بعض اوقات ہلاکتوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر خوراک کے معیار اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات سامنے آسکیں گی۔
