امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید میزائل حملوں سے گریز کرے اور مذاکرات کی میز پر واپس آکر معاہدہ کرے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے کہیں گے کہ جتنے میزائل چلائے جا چکے ہیں وہ کافی ہیں اور اب وقت ہے کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدہ طے پانے کے قریب تھا اورامکان تھا کہ اس پر پیر، منگل یا بدھ کو دستخط ہو جائیں گے تاہم موجودہ صورتحال نے تمام پیش رفت کو متاثر کردیا ہے۔
اسرائیل کو آج رات جواب دے دیا، مشیر ایرانی سپریم لیڈر
صدرٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان حملوں سے خوش نہیں ہیں، انہوں نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کے پیش نظر امریکی فوج مکمل الرٹ ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل متاثر ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران پر مزید جوابی حملے کرتے ہیں تو یہ سلسلہ گزشتہ 47 برسوں کی طرح جاری رہ سکتا ہے، جس سے خطے میں استحکام کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے۔
