نئے مالی سال کیلئے شرح نمو کا ہدف چار فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے اکنامک پالیسی ونگ کی جانب سے سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی (اے پی سی سی) اجلاس کے لیے تیار کردہ ورکنگ پیپر میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی معیشت نے نمایاں استحکام کا مظاہرہ کیا، جس کی بنیادی وجہ محتاط اور مربوط معاشی پالیسیوں کا نفاذ رہا۔
دستاویز کے مطابق مون سون سیزن میں سیلابی صورتحال کے باوجود مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں مہنگائی قابو میں رہی جبکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) نے مسلسل دو سال کی تنزلی کے بعد بحالی کا رجحان دکھایا۔ بیرونی شعبے میں بہتری، ترسیلات زر میں اضافے اور خدمات کی برآمدات بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح مبادلہ میں استحکام آیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بہتر ہوا اور اسٹاک مارکیٹ نے ریکارڈ کارکردگی دکھائی۔
تنخواہ دار طبقے کیلئے خوشخبری، آئندہ بجٹ میں ریلیف پیکج زیرغور
ورکنگ پیپر میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو عالمی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بڑا بیرونی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق تنازع کے باعث آئی ایم ایف نے عالمی معاشی نمو کے تخمینوں پر نظرثانی کرتے ہوئے 2026 کے لیے شرح نمو 3.1 فیصد مقرر کی ہے جبکہ 2027 میں 3.2 فیصد بحالی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا کہ فروری 2026 میں مشرق وسطیٰ میں تنازع کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس کے اثرات پاکستان میں بھی مہنگائی کی صورت میں سامنے آئے۔ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔ جبکہ اپریل 2026 میں ماہانہ مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
دستاویز کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 میں معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی رفتار تیز کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دے گی۔
آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت 1126 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق حکومت نے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مختلف شعبوں کے ترقیاتی اہداف بھی مقرر کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق توانائی کے منصوبوں کے لیے 135 ارب روپے جبکہ آبی وسائل کے شعبے کے لیے 140 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشن کے شعبے کے لیے 408 ارب روپے، سماجی شعبے کے لیے 187 ارب روپے اور گورننس منصوبوں کے لیے 10.2 ارب روپے رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے پر 53 ارب روپے خرچ کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
پلاننگ کمیشن نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا ہے، جبکہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی اور مقررہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔
ترقیاتی بجٹ 8 سال سے جمود کاشکارہے، صوبوں کے پاس وسائل زیادہ اور وفاق کے پاس کم ہیں، احسن اقبال
دستاویزات کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 3.6 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ کاٹن جننگ کے لیے 2.5 فیصد، لائیو اسٹاک کے لیے 3.9 فیصد، جنگلات کے شعبے کے لیے 3.2 فیصد اور ماہی گیری کے شعبے کے لیے 1.5 فیصد ترقی کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
صنعتی شعبے کی مجموعی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے 5.8 فیصد اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کے لیے 4.5 فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا گیا ہے۔ خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو آئندہ مالی سال کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
