طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خون میں شوگر کی سطح بڑھنے کی بڑی وجہ غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت مند طرزِ زندگی ہے، جو آگے چل کر اس موذی مرض کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آج کے دور میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال، میٹھے مشروبات، اور ورزش کی کمی شامل ہیں اس کے علاوہ موٹاپا، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور خاندانی پس منظر بھی اس بیماری کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔
غیر متوازن خوراک سب سے بڑی وجہ
رپورٹ کے مطابق چینی، کولڈ ڈرنکس، بیکری آئٹمز اور جنک فوڈ کا زیادہ استعمال خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھا دیتا ہے،جس سے جسم انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔
واک یا ورزش کا نہ کرنا
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ورزش نہ کرنے سے جسم میں انسولین کی مزاحمت پیدا ہوتی ہے، جو شوگر کے بڑھنے کی اہم وجہ بنتی ہے۔
ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی
اسٹریس اور مناسب نیند نہ لینا بھی ہارمونز کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
ماہرین صحت نے شوگر سے بچاؤ کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں:
اگر چاہتے کہ آپ کی شوگر کنٹرول میں رہے تو اس کے لیے متوازن غذا کا استعمال شروع کردیں خاص طور پر سبزیاں، دالیں اور فائبر والی اشیا ضرور کھائیں۔
شوگر کو تیزی سے بڑھانے میں سب سے زیادہ چینی اور اس سے بنی اشیا بنیادی کردار ادا کرتی ہیں جب کہ فاسٹ فوڈ کا متواتر کھانا بھی شوگربڑھانے کا اہم ذریعہ ہے۔
شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کرنا بھی بہت ضروری ہے۔
چاہتے ہیں شوگر نہ بڑھے تو اس کے لیے وزن کو کنٹرول کے ساتھ پیٹ کی چربی بھی کم کرنی ہوگی۔
طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی بھی شوگر بڑھاسکتی ہے جس کے لیے 6سے 8 گھنٹے پرسکون سونا انتہائی ضروری ہے
ذہنی دباؤ بھی شوگر کو بڑھا سکتی ہے اس کے لیے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں تاکہ اسٹریس کم ہوسکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طرزِ زندگی میں بروقت تبدیلیاں نہ کی گئیں تو پھر شوگر کا مرض ایک خاموش مگر خطرناک عالمی صحت مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے لیے احتیاط اور صحت مند عادات اس بیماری سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
