چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ممکن ہے اور نہ ہی بجٹ کی منظوری۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی اور معاشی بحران کا سامنا ہے،پاکستان کے عوام مہنگائی کا شکار اور مشکل میں ہیں،سیاسی جماعتوں کو عوام کا دکھ محسوس ہوتا ہے۔
بحری قزاقوں کی قید میں پاکستانی شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، بلاول بھٹو زرداری
مشکل وقت میں وزیراعظم کے ریلیف اقدامات کو ویلکم کیا،وزیراعظم نے صوبوں سے مہنگائی کے خاتمے میں وفاق کی مدد کی درخواست کی،پیٹرول سےمتعلق موٹرسائیکل سواروں کوریلیف دیا جا رہا ہے۔وفاق اورصوبوں سےمل کرعوام کوریلیف دینےکی کوشش کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ممکن ہے اور نہ ہی بجٹ کی منظوری۔ بھارت اورامریکاایران کشیدگی جیسےقومی ایشوزہوتےہیں، ہم حب وطنی کی وجہ سےیکجہتی کا پیغام دیتے ہیں۔
میں نے بین الاقوامی میڈیا پربھارت کےبیانیہ کو شکست دی،پاک بھارت جنگ کےبعدوزیراعظم نےامن کمیٹی کی سربراہی مجھے دی،امریکاایران جنگ اورمذاکرات سےمتعلق مجھےکوئی پیش کش نہیں کی گئی۔
جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،سفارتی حل ضروری ہے،بلاول بھٹو
وہ وقت دورنہیں جب مذاکرات کامیاب ہوں،کوئی بھی ترمیم ہو،قومی معاملات میں حکومت کیساتھ ہوتے ہیں،قومی معاملات میں ہم سب پاکستانی ایک ہوجاتےہیں،دفاعی معاہدےسےسعودی عرب کیساتھ تعلقات مزیدمضبوط ہورہےہیں۔
پاکستان نےایران پرحملوں کی مذمت کی ہے،ایران کےبعدسب سےزیادہ میزائل یواےای پرگرے،پاکستان کی فارن پالیسی درست سمت میں جارہی ہے،فارن پالیسی ہمیشہ پاکستان کےمفادمیں بنائی جاتی ہے۔وزیراعظم اورفیلڈ مارشل دنیا میں امن قائم کرنےکی کوشش کررہے ہیں،ہم ایران میں امن کےخواہاں ہیں۔
