چین نے سینکڑوں امریکی بیف پراسیسنگ پلانٹس کے ایکسپورٹ لائسنس دوبارہ جاری کر دیے ہیں، اور یہ اقدام صدر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران خیرسگالی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رائٹرز نے کسٹمز ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ 400 سے زائد امریکی بیف پلانٹس گزشتہ ایک سال کے دوران لائسنس ختم ہونے کے باعث چین کو برآمدات سے محروم ہو گئے تھے، جو مجموعی طور پر تقریباً 65 فیصد رجسٹرڈ سہولیات بنتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق زرعی شعبہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور یہ پیش رفت اسی سمت میں پہلا عملی اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کار ژو ہونگزی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے شعبوں میں خیرسگالی ظاہر کرتا ہے جو امریکہ-چین تجارتی تعلقات میں نسبتاً کم حساس سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی کمپنیوں کارگل اور ٹائسن فوڈز کے پلانٹس بھی ان لائسنسز میں شامل ہیں، جس سے امریکی بیف انڈسٹری کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ تجارتی کشیدگی کے باعث چین کو امریکی بیف کی برآمدات 2022 میں 1.7 ارب ڈالر کی بلند سطح سے کم ہو کر گزشتہ سال تقریباً 50 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں۔
