وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ملک بھر میں 11 ہزار 500 فیڈرز پر زیرو لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ کئی دیگر فیڈرز پر بھی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے اور حکومت نے لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ان کے مطابق حکومت اپنے ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی شرح کو 96 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان نے 74 فیصد بجلی اپنے مقامی ذرائع سے پیدا کی جبکہ پاور ڈویژن میں 400 ارب روپے کا مالی بوجھ کم کیا گیا۔ انہوں نے ڈسکوز کو ہدایت کی کہ لائن لاسز میں زیادہ سے زیادہ کمی لائی جائے تاکہ بجلی کی فراہمی کا نظام مزید بہتر بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر توانائی نے اعتراف کیا کہ ان کے اپنے حلقے میں بھی 5 فیڈرز ایسے ہیں جہاں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے متعدد فیڈرز پر لائن لاسز ختم کر کے لوڈشیڈنگ صفر کر دی گئی ہے۔
سولر توانائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نے کبھی سولر صارفین کی حوصلہ شکنی نہیں کی اور سولر پالیسی میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس سے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہو۔ ان کے مطابق اگر کوئی شہری ایک لاکھ روپے کا سولر سسٹم لگاتا ہے تو تقریباً تین سال میں اس کی لاگت پوری ہو جاتی ہے۔
ایران امریکا کشیدگی، تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز سے 3 ہزار 400 ارب روپے واپس لیے ہیں اور اس حوالے سے سخت اقدامات کیے گئے، نیٹ میٹرنگ سے متعلق وزیر توانائی نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے صارفین میں “کوئی غریب نہیں” ہے۔
