اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کا سلسلہ جاری نہ رکھنے کا مطالبہ کر دیا۔ جس کے باعث آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ابتدائی ورچوئل مشاورت جاری ہے۔ جس میں مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات پر زور دیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مالی دباؤ سے بچنے کے لیے توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے۔ جبکہ بجلی اور توانائی کے ٹیرف سے متعلق ریگولیٹری اداروں کی سفارشات کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ اور مراعات کو محدود کرنے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور سیلز ٹیکس میں دی گئی چھوٹ کم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
حکام کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ کے اہم اہداف کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ جبکہ معاشی اصلاحات اور عالمی حالات میں بہتری کے ساتھ اگلے مالی سال میں شرح نمو کو درمیانی مدت میں تقریباً 5.5 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔
