جے یو آئی (ف) نے مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف ملک بھر میں کل احتجاج کا اعلان کر دیا۔
جے یو آئی (ف) نے اپنے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف کل ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
صوبائی قیادت کے مطابق مولانا محمد ادریس کو آج شہید کیا گیا، جس پر جماعت کے رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر مولانا عطا ء الرحمان نے کہا کہ ہم کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے، ریاست شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت عوام کو سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو پھر اس کا وجود کیوں برقرار ہے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ کل ملک کے تمام اضلاع میں بدامنی کے خلاف مظاہرے کیے جائیں گے اور حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔
پشاور میں سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ علما ریاست کے خیر خواہ ہیں، مگر انہیں مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں فارم 47 کی حکومت گزشتہ تیرہ سال سے مسلط ہے اور وہ امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود تو امن برقرار نہیں رکھ سکتی لیکن وفاق کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
چارسدہ میں معروف عالم دین اور سابق ایم پی اے مولانا ادریس فائرنگ سے جاں بحق
سینیٹر عطاءالرحمان نے کہا کہ اس وقت صوبے میں حکومت کی نہیں بلکہ دہشت گردوں کی عملداری نظر آتی ہے، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت قوم کی دشمن بن چکی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کل ہونے والا احتجاج نہ صرف بدامنی کے خلاف ہوگا بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھی بھرپور مظاہرے کیے جائیں گے۔
