ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ ملک کی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور موجودہ صورتحال کو جنگ کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ میدان میں وقتی خاموشی یا جنگ بندی جیسی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم ایران نے امریکا اور دیگر دشمنوں پر عدم اعتماد کے باعث اپنی جنگی تیاریوں کو برقرار رکھا ہے اور نئے اہداف کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق جنگ سے قبل انٹیلیجنس جائزوں کی بنیاد پر تمام فوجی یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے اصفہان میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کی دراندازی کی کوشش کے دوران ایرانی زمینی افواج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کی کارروائی ناکام ہو گئی۔
پاکستان کی ثالثی کوششوں کو قطر کی مکمل حمایت، مذاکرات پر زور
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کے قومی فضائی دفاعی مرکز کے تحت کام کرنے والے یونٹس نے 170 سے زائد دشمن ڈرونز اور 16 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ اس کے علاوہ ایرانی فضائیہ نے ابتدائی مرحلے میں عراق، کویت اور قطر میں دشمن کے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
ترجمان نے ایک امریکی میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ایک ایف-5 طیارے نے مختلف دفاعی حصار عبور کرتے ہوئے ایک امریکی اڈے کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی بحریہ نے نیول کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے اور اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا اور امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو ایرانی ساحل کے قریب آنے سے روک دیا گیا۔
