دنیا بھر میں سائنسی ترقی کی رفتار نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے، جہاں گزشتہ پانچ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی بدولت ایسی حیران کن ایجادات سامنے آئی ہیں جن کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرین نے کہا ہے کہ یہ پیشرفت جہاں انسانیت کے لیے نئی امیدیں لے کر آئی ہے وہیں مستقبل کے حوالے سے خدشات بھی بڑھا رہی ہے۔
ڈیپ مائنڈ نے کروڑوں پروٹینز کی ساخت کی پیشگوئی کر کے حیاتیاتی سائنس میں انقلاب برپا کر دیا، جس سے وہ تحقیق جو پہلے برسوں میں مکمل ہوتی تھی اب چند لمحوں میں ممکن ہو گئی ہے۔
دوسری جانب جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے کائنات کے ابتدائی دور کی ایسی کہکشائیں دریافت کیں جو بگ بینگ کے چند کروڑ سال بعد ہی وجود میں آ گئی تھیں۔ جس نے سابقہ سائنسی نظریات کو چیلنج کر دیا۔
طبی میدان میں بھی نمایاں پیشرفت دیکھنے میں آئی، جہاں جین ایڈیٹنگ کے ذریعے جینیاتی بیماریوں کے علاج میں کامیاب تجربات کیے گئے، جبکہ مرنا ٹیکنالوجی نے انسانی مدافعتی نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے اور اسے تبدیل کرنے کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔
View this post on Instagram
جینوم سیکوئنسنگ کے شعبے میں بھی ریکارڈ قائم ہوا، جہاں انسانی جینوم کو چند گھنٹوں میں پڑھنے کا کارنامہ انجام دیا گیا، جو ماضی میں ایک طویل اور پیچیدہ عمل سمجھا جاتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی ترقی کی یہ برق رفتاری 2050 تک انسانیت کو ایک نئے دور میں داخل کر سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ اخلاقی، سماجی اور سکیورٹی چیلنجز بھی شدت اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
