جرمن چانسلر نے ایران کے حوالے سے جاری کشیدگی پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران سمجھوتہ کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہوتا ہے تو یورپی ممالک بھی پابندیوں میں نرمی پر غور کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی حل ہی خطے کے استحکام کا واحد راستہ ہے، جبکہ مسلسل دباؤ اور پابندیاں کسی دیرپا حل کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔
چانسلر کے مطابق ایران کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعمیری بات چیت کرے تاکہ اعتماد سازی کا عمل آگے بڑھ سکے۔
یہ ہماری جنگ نہیں، توانائی وافر ہے، یورپ آبنائے ہرمز پرزیادہ انحصار کرتا ہے، امریکا
انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی اوراس کے اتحادی اس وقت تک سخت موقف برقرار رکھیں گے جب تک کوئی بامعنی پیش رفت سامنے نہیں آتی، تاہم اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہوتا ہے تو پابندیوں میں نرمی کے امکانات موجود ہیں۔
