اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان نئی آٹو سیکٹر پالیسی پر اتفاق ہو گیا۔ جسے رواں ماہ حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے آئی ایم ایف کو بھجوایا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق نئی آٹو پالیسی آئندہ ماہ وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ پالیسی کے تحت آئندہ 4 برسوں میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ درآمدی نظام کو زیادہ شفاف اور مسابقتی بنایا جا سکے۔
ذرائع وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں 2030 تک بتدریج کمی کی جائے گی۔ جبکہ مالی سال 2027 کے بعد سات سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت بھی دی جائے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2027 سے ہر سال اضافی ڈیوٹی میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔ جبکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت موٹر وہیکل ڈیولپمنٹ ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیل ملز میں اربوں روپے کی منظم چوری کا بڑا اسکینڈل بےنقاب
حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، مقابلے کی فضا پیدا کرنا اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
