پاکستانی مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو ان کی 15ویں برسی کے موقع پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
معین اختر نے محض 16 سال کی عمر میں اپنے اسٹیج کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی بے مثال نقلوں، برجستہ مزاح اور مختصر مگر مؤثر خاکوں کے باعث بہت کم وقت میں عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی۔ جلد ہی وہ ہر گھر کی پہچان بن گئے۔
مائیکل جیکسن کی زندگی کے حیران کن حقائق
انہیں برصغیر کے عظیم ترین مزاحیہ اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے چار دہائیوں تک اسٹیج اور ٹیلی وژن دونوں پر اپنے فن سے ناظرین کو محظوظ کیا۔
24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے اردو، انگریزی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور بنگالی سمیت متعدد زبانوں پر عبور حاصل کیا۔
1990 کی دہائی میں پاکستان میں پرورش پانے والے ہر گھر میں معین اختر ایک مقبول اور معروف شخصیت تھے۔ ان کی شاندار اور مزاحیہ انداز میں مختلف کرداروں کی عکاسی اور عام سماجی موضوعات پر ان کی برجستہ مزاحیہ پیشکش نے مزاح اور طنز کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔
ملک کی مسلسل سیاسی و سماجی صورتحال کے پیش نظر ان کے پروگرام عوام کے لیے ایک خوشگوار تفریح اور حقیقت سے کچھ دیر کے لیے فرار کا ذریعہ تھے۔
ان کے مشہور ڈراموں میں مس روزی، انتظار فرمائیے، بند روڈ، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نو سر اور عید ٹرین شامل ہیں۔
ارشاد بھٹی کا میرا سے نامناسب سوالات پر سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید پر ردعمل سامنے آگیا
ڈرامہ مس روزی میں ان کی خواتین کردار کی اداکاری کو پاکستانی ٹیلی وژن کی کامیاب ترین پیشکشوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے انہیں بے پناہ شہرت دی۔
بعد ازاں انہوں نے نامور مزاحیہ شخصیت انور مقصود کے ساتھ کام کیا۔ دونوں نے مل کر 1995 کے طنزیہ ٹاک شو لوز ٹاک کی 400 سے زائد اقساط کی میزبانی کی اور مختلف کرداروں کے ذریعے عوام کو محظوظ کیا۔
معین اختر کو برصغیر کے عام عوام کا نمائندہ فنکار سمجھا جاتا تھا اور ان کے مداح پاکستان سمیت بھارت میں بھی موجود ہیں۔
ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1996 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2011 میں پاکستان کا تیسرا بڑا سول اعزاز ستارہ امتیاز بھی دیا گیا۔ انہوں نے 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پائی۔
