پاپ موسیقی کے بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً 17 برس گزر چکے ہیں، تاہم ان کی زندگی سے جڑے کئی ایسے حیران کن پہلو آج بھی منظرِ عام پر آ رہے ہیں جن سے ان کے کروڑوں مداح مکمل طور پر آگاہ نہیں۔
حالیہ رپورٹس میں ان کی شخصیت کے ایسے رخ سامنے آئے ہیں جو اسٹیج کی چمک دمک سے بالکل مختلف تھے۔ مثال کے طور پر، مائیکل جیکسن بچپن ہی سے سپر ہیرو “اسپائیڈر مین” کے زبردست مداح تھے اور اس کردار کو خود ادا کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے 1990 کی دہائی کے آخر میں “مارول انٹرٹینمنٹ” خریدنے کی کوشش بھی کی، تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔
رمشا خان کی پیشگوئی حقیقت بن گئی، مداح حیران
ان کا مشہور 45 ڈگری تک جھکنے والا “اینٹی گریویٹی” ڈانس اسٹیپ بھی کسی کیمرہ ٹرک کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس کے لیے انہوں نے انجینیئرز کے ساتھ مل کر خصوصی جوتے تیار کروائے تھے، جن میں نصب ہکس اسٹیج کے ساتھ جڑ کر انہیں یہ حیرت انگیز حرکت کرنے میں مدد دیتے تھے۔
شہرت اور دولت کی بلندیوں کے باوجود مائیکل جیکسن شدید تنہائی کے احساس سے دوچار رہتے تھے۔ وہ اکثر خود کو دنیا کا تنہا ترین انسان قرار دیتے اور جذباتی ہو جاتے تھے۔ ان کا بچپن بھی عام بچوں جیسا نہیں تھا؛ والد کے سخت رویے اور مبینہ تشدد نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اسی کمی کو پورا کرنے اور بچوں کو خوشیاں دینے کے لیے انہوں نے “نیور لینڈ رینچ” قائم کیا، جو ایک تفریحی پارک اور چڑیا گھر پر مشتمل تھا۔ وہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے اکثر بھیس بدل کر عوامی مقامات پر جاتے، حتیٰ کہ ایک موقع پر بے گھر شخص کا روپ بھی اختیار کیا۔
مائیکل جیکسن کو تاریخ اور شاہی خاندانوں، خصوصاً برطانوی اور فرانسیسی بادشاہت سے گہری دلچسپی تھی، جس کی جھلک ان کے ملبوسات اور فن میں واضح دکھائی دیتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خاموشی سے مشہور ویڈیو گیم “سونک ہیج ہاگ 3” کے ساؤنڈ ٹریک پر بھی کام کیا، تاہم معیار سے مکمل اطمینان نہ ہونے کے باعث انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دی۔
ارشاد بھٹی کا میرا سے نامناسب سوالات پر سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید پر ردعمل سامنے آگیا
اگرچہ اسٹیج پر وہ انتہائی پُرجوش اور توانائی سے بھرپور دکھائی دیتے تھے، مگر نجی زندگی میں وہ نہایت شرمیلے اور دھیمی آواز میں گفتگو کرنے والے انسان تھے۔ ساتھ ہی، انہوں نے اپنی زندگی میں کروڑوں ڈالرز فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کیے، جو ان کے انسان دوست پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔
