اسلام آباد، پاور ڈویژن پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک میں 17 اپریل سے بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور نظامِ ترسیل نسبتاً مستحکم ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبوں کی ڈیمانڈ پرپن بجلی کے اخراج سے پیک اوقات میں تقریباً 5 ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جس سے قومی گرڈ کو سہارا ملا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے جنوبی حصے سے 400 میگاواٹ اضافی بجلی گرڈ میں شامل ہونے کے بعد نظام میں مزید استحکام پیدا ہوا ہے۔
ملک بھر میں تین چھٹیاں، حکومت کا تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کا حکم
اسلام آباد میں 17، 18 اور19 اپریل کے دوران رات کے پیک اوقات میں کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی جوایک مثبت پیش رفت ہے۔
ترجمان کے مطابق 20 اپریل کو بیشتر تقسیم کارکمپنیوں نے رات کے اوقات میں صرف ایک گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی جبکہ گیپکو اورسیپکو میں رات کے پیک اوقات کے دوران دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایل این جی سے چلنے والے 5500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس اس وقت ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث بجلی پیدا نہیں کررہے تاہم جیسے ہی ایل این جی دستیاب ہوگی، یہ پلانٹس دوبارہ پیداوارشروع کردیںگے۔
پاور ڈویژن کے مطابق بجلی چوری اورلائن لاسزکی بنیاد پر لوڈ مینجمنٹ جاری رہے گی جومجموعی پالیسی کا حصہ ہے اور اس کا براہ راست تعلق پیک لوڈ سے نہیں ہے۔
