تہران: ایرانی قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران مذاکراتی عمل میں سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور ایرانی قوم کے مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہو گی۔
ایرانی حکام نے کہا کہ جب تک “دشمن” کی جانب سے بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات بھی جاری رہیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے مخصوص قواعد و فیس کا نظام نافذ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ آمدورفت ایران کے مقرر کردہ راستوں کے مطابق ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ مذاکرات میں سخت موقف اختیار کررہے ہیں، امریکی صدر
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کی ذمہ داری ایران کے پاس ہے۔ یا تو مذاکرات میں ایران کو اپنے حقوق ملیں گے یا پھر سخت راستہ اختیار کیا جائے گا۔
