لاہور، پنجاب کی وزیرِ اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ فاسٹ بولر نسیم شاہ پر عائد جرمانے سے صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں اور یہ مکمل طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کے طرزِ عمل سے متعلق ضابطۂ اخلاق پی سی بی کا اپنا نظام ہے، اور اسی کے تحت تمام تادیبی کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔
انہوں نے اس معاملے پر ذاتی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس پرمزید تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ ان کے پاس اس حوالے سے مثبت الفاظ موجود نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے افسران کے مفت بجلی یونٹس ختم کرنا درست قرار دیدیا
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ نسیم شاہ ایک پیشہ ور کھلاڑی ہیں اور انہیں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا پر کسی ٹرولر کی طرح کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں نسیم شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پوسٹ میں قذافی اسٹیڈیم میں ان کی تصویر کے ساتھ سوال اٹھایا گیا تھا کہ انہیں لارڈز کی ملکہ کی طرح کیوں ٹریٹ کیا جا رہا ہے، تاہم بعد ازاں یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
اس معاملے پر پی سی بی نے کھلاڑی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد ازاں تقریباً 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا۔
نسیم شاہ نے بعد میں عوامی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ پوسٹ ان کی مینجمنٹ ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی تھی، تاہم وہ اپنے اکاؤنٹ کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
