پاکستان نے بیساکھی میلہ کے موقع پر بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے یاتریوں کومکمل سہولیات، سیکیورٹی اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے مذہبی فرائض اطمینان کے ساتھ ادا کرسکیں۔

بیساکھی کے موقع پرسکھ یاتریوں کی آمد نہ صرف ایک مذہبی تقریب ہے بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے احترام کا بھی مظہر ہے۔
بسنت پرہونے والے اخراجات کی تفصیلات سامنے آگئیں
اس موقع پر یاتری گوردوارہ پنجہ صاحب، ننکانہ صاحب اور کرتارپور صاحب سمیت اپنے مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں، جہاں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق پاکستان سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات کا امین ہے اور ان کی حفاظت و دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
ان مقامات کو دنیا بھر کے سکھوں کے لیے کھلا رکھنا پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مشترکہ ورثے کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ اقدامات پاکستان کے ایک پرامن، روادار اور ذمہ دار ملک کے طور پر مثبت تشخص کو اجاگر کرتے ہیں جو سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت اور باہمی روابط کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے۔
