بھارت میں ہونے والے الیکشن میں اکثر حقیقی عوامی مسائل نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔
مغربی بنگال کے انتخابات میں مچھلی باورچی خانے سے نکل کر انتخابی مہم تک پہنچ گئی اور غیر متوقع طور پر سیاسی تنازعے کا مرکز بن گئی ہے۔
ایک کروڑ سے زائد کی آبادی والی ریاست مغربی بنگال میں 23 اور 29 اپریل کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ریاست میں یہی باتیں ہو رہی ہیں اگر وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت اقتدار میں آ گئی تو کیا وہ مچھلی پر پابندی لگا دے گی؟
اسرائیل نواز پالیسی،انتہاپسند مودی کو کڑی تنقید کا سامنا
مودی کی جماعت بی جے پی بعض اوقات اپنی ہندو قوم پسندانہ پالیسی کے تحت سبزی خوری (ویجیٹیرینزم) کو فروغ دیتی رہی ہے اور دیگر ریاستوں میں خوراک سے متعلق محدود پابندیاں بھی نافذ کر چکی ہے۔
بی جے پی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جارحانہ انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ ایک حالیہ انتخابی جلسے میں ممتا بینرجی نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی مغربی بنگال میں اقتدار میں آ گئی تو وہ ”مچھلی، گوشت حتیٰ کہ انڈوں پر بھی پابندی لگا دے گی۔‘‘
مودی نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کے بجائے بھارت کو اکیلا کر دیا ، بھارتی تجزیہ کار
دوسری جانب بی جے پی اس بات کی تردید کر رہی ہے کہ وہ ریاست میں مچھلی پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایک سرکاری اسکول کی ٹیچر سمیتا دتّا نے کہا، ”میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ بنگالیوں کے دوپہر یا رات کے کھانے مچھلی کے بغیر ہوں۔‘‘اگر مچھلی کی فروخت پر کسی قسم کی پابندی لگائی گئی تو ریاست کے لوگ بغاوت کر دیں گے۔‘‘
ایک سرکاری یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سبیاساچی باسو رے چودھری نے کہا، ”مچھلی بنگالی ثقافت اور کھانوں کا اہم حصہ ہے۔
