لندن: برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے ایران کو ڈرونز، ادویات اور خوراک کی فراہمی شروع کر دی۔ جبکہ تہران نے ماسکو سے مزید فضائی تعاون کی درخواست بھی کی ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق روس کی جانب سے ایران کو ڈرونز کی ترسیل کا سلسلہ مارچ میں شروع ہوا۔ جس کا مقصد جاری کشیدگی کے دوران ایران کی دفاعی اور لاجسٹک صلاحیت کو تقویت دینا ہے۔
دوسری جانب روس نے ان اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اور ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ تاہم باضابطہ طور پر کسی بڑے فوجی معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے تاحال امریکی تجاویز کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا۔ اور ملک کے اندر بعض اہم شخصیات جنگ بندی سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون کا یوکرین کے لیے مختص ہتھیار مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر غور
مبصرین کے مطابق اگر روس اور ایران کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ تو اس کے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی سفارتی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
