لاہور: پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی سکھ خاتون کے لیے مشکل کھڑی ہو گئی۔ بھارتی شہری نے اہلیہ کے نکاح کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ میں بھارتی شہری کرنیل سنگھ کی جانب سے اہلیہ سربجیت کور کے پاکستان میں نکاح کے خلاف دائر درخواست پر بطور اعتراض سماعت ہوئی۔ عدالت نے بھارتی شہری کی جانب سے پاکستانی شہری کو اٹارنی مقرر کرنے کے معاملے پر تفصیلی دلائل طلب کر لیے۔
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بھارتی شہری کس طرح پاکستان میں اپنا اٹارنی مقرر کر سکتا ہے۔ اس نکتے پر پاکستانی قوانین کے مطابق معاونت درکار ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ نواز شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان عالمی ہیومن رائٹس کنونشن کا رکن ہے۔ اور عالمی قوانین کے تحت بھارتی شہری کسی پاکستانی شہری کو اپنا اٹارنی مقرر کر سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسے اس معاملے پر پاکستانی قوانین کے تناظر میں دلائل دیئے جائیں۔ اس پر وکیل درخواست گزار نے مزید وضاحت کے لیے مہلت طلب کی۔ جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے سماعت 2 مارچ تک ملتوی کر دی۔
جسٹس فاروق حیدر نے درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی۔ بھارتی شہری کی جانب سے ایڈووکیٹ نواز شیخ اور ایڈووکیٹ علی چنگیزی سندھو پیش ہوئے۔
درخواست گزار کرنیل سنگھ نے سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ کو نمائندہ مقرر کرتے ہوئے درخواست دائر کی تھی۔ تاہم رجسٹرار آفس نے اس پر متعدد اعتراضات عائد کیے۔
رجسٹرار آفس کے مطابق اسپیشل پاور آف اٹارنی محکمہ خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں ہے۔ جبکہ درخواست گزار نے نکاح کی منسوخی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع بھی نہیں کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سربجیت کور 3 نومبر 2025 کو 10 روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔ اہلیہ کو قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر کے جبری طور پر مسلمان کیا گیا۔ ہندو میرج ایکٹ کے تحت مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی لہٰذا نکاح کو کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ 48 سالہ سربجیت کور 4 نومبر 2025 کو بابا گورو نانک کا جنم دن منانے پاکستان آنے والے بھارتی یاتریوں کے ساتھ آئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: دستاویزات کی فوٹو کاپی لانے کی ضرورت نہیں، نادرا کا بڑا اعلان
قیام کے دوران انہوں نے 5 نومبر 2025 کو اسلام قبول کیا اور مقامی شہری ناصر حسین سے نکاح کر لیا۔ جس کے بعد ان کا نام نور حسین رکھا گیا۔ ان کے لاپتہ ہونے کا انکشاف 13 نومبر کو ہوا جب بھارتی یاتری واپس اپنے ملک پہنچے۔
