پشاور، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ترقیاتی اور تعلیمی پروگراموں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا سیف سٹیز پراجیکٹ کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی، پشاورسے آغاز ہونے والے سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور نارتھ وزیرستان سمیت چار دیگر اضلاع شامل کیے گئے ہیں۔
سیف سٹی پراجیکٹ کے کچھ اہداف پر 80 فیصد اور کچھ پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے، جس سے صوبے میں سیکیورٹی اور شہری حفاظت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025 کے لیے 25 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی، پشاور ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی۔
بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات، وکلاء اور فیملی کی فہرست جاری
گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام کیلئے 207 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، جو تین سالہ منصوبہ ہوگا اس پروگرام کے تحت ہرسال 850 قابل نوجوانوں کومختلف علوم کی ترویج کیلئے انٹرن شپ فراہم کی جائیگی۔
اجلاس میں اسکول لیڈرزکی کنٹریکٹ بنیادوں پربھرتیوں کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت تین سال کے لئے تعینات ایک ہزار 144 اسکول لیڈرز کو دوبارہ موقع دیا جائیگا۔
ان اقدامات کا مقصد خیبرپختونخوا میں تعلیم کے معیارکو بہتر بنانا اورنوجوانوں کوعملی تجربہ فراہم کرنا ہے، تاکہ صوبے میں تعلیمی و شہری ترقی کے لیے مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔
