راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بلدیاتی قوانین اور بلدیاتی اختیارات پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت باغ میں بلدیاتی حقوق کے لیے دھرنا دیا گیا۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ سال 14 دن کا دھرنا دیا گیا تھا۔ اگر ضرورت پڑی تو کیا اب بھی آپ تیار ہیں؟
موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب فارم 47 کی پیداوار قوتیں ہیں۔ جنہیں اسٹیبلشمنٹ نے حکومت میں بٹھایا ہے۔ نواز شریف سمیت سب ہار گئے تھے۔ اور اگر یہ خود کو چیمپئن سمجھتے ہیں تو اصل فارم سامنے لے آئیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ عوام کے منتخب کردہ نہیں بلکہ مسلط کیے گئے ہیں۔ آئین کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد کرنا ہو گی۔
بلدیاتی ایکٹ کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ایسے قوانین اور ادارے بنائے ہیں۔ جن کا مقصد مقامی حکومتوں کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 6 سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں نے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔ اور بلدیاتی نظام پر قبضہ کیا گیا۔ جسے جماعت اسلامی تسلیم نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 خوارج ہلاک
انہوں نے دھرنے کے شرکا سے سوال کیا کہ اگر وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور یا پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ کی کال دی جائے تو کیا وہ تیار ہیں؟ نئے قوانین ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں اور عوامی نمائندگی کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔
