اپنا گھر خریدنے کے بجائے کرایے پر رہنا کیسے فائدہ مند ہے؟


اپنا گھر بنانا یا بنا بنایا خریدنا بہت سے لوگوں کے لیے زندگی کا بڑا فیصلہ ہوتا ہے، لیکن متعدد ماہرین اور اقتصادی مبصرین کے مطابق کرایے پر رہنا بعض حالات میں گھر خریدنے سے زیادہ فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔

کرایے اور خریداری کے مالی اور عملی پہلوؤں کا موازنہ کرتی متعدد معتبر رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرایہ پر رہنے کے کئی ایسے فوائد ہوتے ہیں جو گھر کے مالک نہ ہونے کی صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلے، کرایے پر رہنے کے لیے ابتدائی لاگت بہت کم ہوتی ہے۔ کرایہ دار کو عموماً صرف سکیورٹی ڈپازٹ اور پہلے ماہ کا کرایہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ گھر خریدنے کے لیے خطیر رقم، بڑے ڈاؤن پیمنٹ، رجسٹریشن اور دیگر اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔

کرایے پر رہنے کی ایک بڑی خوبی مرمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری نہ ہونا ہے۔ عموماً مکان کے مالک یا لینڈ لارڈ بجلی، پلمبنگ یا چھت کی مرمت کا خرچہ اٹھاتا ہے، جبکہ گھر کا مالک خود ان اخراجات کا بوجھ اٹھاتا ہے۔

Rawalpindi, Islamabad: House rents increased by over 25pc in two years -  Business & Finance - Business Recorder

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ کرائے دار کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا خطرہ نہیں ہوتا۔ گھر خریدنے کے ساتھ جائیداد کی قیمت میں کمی یا بڑھوتری کا خطرہ منسلک ہوتا ہے، جس کا اثر مالک کی مالی حالت پر پڑ سکتا ہے، جبکہ کرایہ دار کو ایسی کسی بھی نقصان بھرے فیصلے کا خطرہ نہیں اٹھانا پڑتا۔

کرایے پر رہنے سے آزادی ملتی ہے۔ اگر ملازمت یا تعلیم کی وجہ سے کسی دوسرے شہر یا ملک جانے کا منصوبہ ہو تو کرایہ دار آسانی سے منتقل ہو سکتا ہے، جبکہ گھر بیچنے یا کرایہ پر دینے کا عمل وقت طلب اور مشکل ہو سکتا ہے۔

ایک اور فائدہ یہ ہے کہ کرائے پر رہتے ہوئے شہر کے مرکزی یا بہتر علاقوں میں رہائش کا موقع آسانی سے مل سکتا ہے، جو خریدنے کی صورت میں بہت مہنگا یا نا ممکن ہو۔ بعض کرایہ کے مکانات میں سہولیات جیسے جِم، سوئمنگ پول یا سیکیورٹی بھی شامل ہوتی ہیں، جو گھر خریدنے پر اضافی خرچے کا باعث بنتیں۔

البته کرائے کے ساتھ منسلک کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں، جیسے کرایہ میں ممکنہ اضافہ یا مکان بیچنے کی صورت میں رینٹر کو منتقل ہونا پڑ سکتا ہے، لیکن مختصر مدت اور غیر یقینی حالات میں کرایہ دار رہنا اکثر بہتر راستہ ثابت ہوتا ہے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp