ایشز سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں اسنیکو (Snicko) ٹیکنالوجی ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی، جس پر آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’برطرف‘‘ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
ایشز کے تیسرے ٹیسٹ کیلئے آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون کا اعلان ، کپتان پیٹ کمنز کی واپسی
ایڈیلیڈ اوول میں کھیلے جانے والے میچ کے دوسرے روز بھی ایج ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی کی ساکھ پر سوالات اٹھے، جب متنازع فیصلوں نے کھلاڑیوں اور شائقین کو حیران کر دیا۔
میچ کے دوسرے دن انگلینڈ کو اس وقت ریلیف ملا جب میچ ریفری جیف کرو نے ایک ریویو بحال کر دیا۔ اس سے قبل اسنیکو فراہم کرنے والی کمپنی بی بی جی اسپورٹس نے تسلیم کیا تھا کہ آپریٹر کی غلطی کے باعث پہلے دن ایلکس کیری کو غلط طور پر ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا۔ اس معاملے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے آئی سی سی سے نظام اور پروٹوکولز پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے۔
سڈنی واقعہ ، ایشز سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں اسٹیڈیم کے باہر سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب پیٹ کمنز کی گیند پر جیمی اسمتھ کے خلاف فرسٹ سلپ میں کیچ کا ریویو لیا گیا۔ ٹی وی امپائر کرس گیفنی نے اسنیکو دیکھنے کے بعد فیصلہ دیا کہ گیند اسمتھ کے ہیلمٹ سے لگی ہے، تاہم آسٹریلوی کھلاڑیوں کا ماننا تھا کہ گیند دستانے سے ٹکرائی۔ فیصلہ برقرار رہنے پر مچل اسٹارک نے اسٹمپ مائیک کے قریب کہا، ’’اسنیکو بدترین ٹیکنالوجی ہے، کل بھی غلطی کی اور آج بھی۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند اوورز بعد جیمی اسمتھ خود اسنیکو کے ذریعے آؤٹ قرار دیے گئے،سابق عالمی شہرت یافتہ امپائر سائمن ٹافل نے آئی سی سی کی جانب سے ’سافٹ سگنل‘ ختم کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی امپائر کی مدد کے لیے ہونی چاہیے، اس کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے بھی اسنیکو کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب سابق کپتان رکی پونٹنگ نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دیگر ممالک میں استعمال ہونے والے نظام کے برابر نہیں اور امپائرز بھی اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ تاہم نیتھن لیون نے میچ کے اختتام پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایشز ٹیسٹ میں اسنیکو پر اٹھنے والے سوالات نے ایک بار پھر کرکٹ میں ٹیکنالوجی کے کردار اور اس پر اعتماد کے معاملے کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

