عدالت نے خاتون کو افغان شوہر اور بچوں سے ملنے کی اجازت دے دی۔
پشاور ہائیکورٹ نے افغانی شوہر سے ملاقات کے لیے خاتون کے بیرون ملک سفر پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست پر سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے کی، عدالت نے خاتون کو شوہر اور بچوں سے ملنے کی اجازت دیتے ہوئے خاتون کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
اس طرح خاتون کو عدالت نے افغانستان جانے کی اجازت بھی دے دی۔
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون کی شادی افغانستان کے رہائشی میوند اکبری سے ہوئی ہے اور ان کے بچے بھی افغانستان میں ہی موجود ہیں۔
خاتون اپنے شوہر اور بچوں سے ملنے کے لیے افغانستان جانا چاہتی ہیں، مگر ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے کے باعث وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتیں۔
اس پر ایف آئی اے کے امیگریشن نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خاتون کا نام ایف آئی اے کی سفارشات پر لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں ڈالا گیا ہے؟ یہ تو خود اسلام اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ آپ ایک خاتون کو بچوں اور شوہر سے ملنے سے کیوں روک رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ، دو اہلکار شدید زخمی، حملہ آور افغان شہری نکلا
دلائل سننے کے بعد عدالت نے خاتون کا نام فوری طور پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا اور انہیں اپنے شوہر اور بچوں سے ملنے کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ خاندانی روابط اور بنیادی حقوق کو کسی غیر ضروری پابندی کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔
