جوہانسبرگ: امریکی بائیکاٹ کے باوجود جی 20 اجلاس میں 122 نکاتی مشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا گیا۔
جی 20 سربراہ اجلاس میں روایت کے برعکس آغاز میں ہی 122 نکاتی اعلامیہ منظور کیا گیا، موسمیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجوں سے متعلق اعلامیہ امریکی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا۔
ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل پر مشترکہ اعلامیہ کی امریکا نے مخالفت کی تھی، امریکی بائیکاٹ کے باوجود ہونے والی اس منظوری پر وائٹ ہاؤس نے الزام عائد کیا کہ جنوبی افریقا نے جی 20 کی صدارت کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے اعلامیہ کوشرمناک قرار دیا۔
اعلامیہ میں غریب ممالک کو موسمیاتی آفات اور قرض بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ عالمی اقدام کی اپیل کی گئی ہے۔ جنوبی افریقا کے صدر راما فوسا نے کہا کہ امریکا دباؤ ڈال رہا ہے، ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا۔
ویتنام میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی
جی 20 اجلاس کے اختتام پر امریکا گروپ کی صدارت سنبھالے گا، اس بارے میں جنوبی افریقا نے امریکا کی یہ درخواست بھی مسترد کی ہے کہ صدارت کی منتقلی کے لیے صرف نچلے درجے کا سفارتکار بھیجا جائے۔
جنوبی افریقا کا کہنا ہے کہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے اور منتقلی برابر کے عہدے دار کے ذریعے ہی ہوگی، صدر جنوبی افریقا نے صدارت امریکی سفارتخانہ کے کسی اہلکارکے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے۔
