لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم صرف نظام پر تنقید نہیں کرتے، بلکہ اس کے لیے لڑتے اور بات بھی کرتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو دہائیوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ اور ملک میں انصاف پر مبنی نظام نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سروں پر جو مسلط ہیں وہ ہمیں ہمارا حق اور خواتین کو بھی حقوق نہیں دیتے۔ ہم چاہتے ہیں خواتین کی تربیت پر کام ہونا چاہیئے۔ لیکن ظلم کے نظام میں خواتین کو ان کا حق نہیں ملتا۔ جبکہ ملک میں خواتین کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہر ایک کو وراثت کا حق دینا پڑے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ لوگ قوم کو لڑوا کر مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔ پولیس قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اور ملک میں ساڑھے 3 کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری خواتین اور بچیوں کو اختیار ملے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ دسمبر میں خواتین کے لیے فری آئی ٹی اسکالر شپ پروگرام شروع کریں گے۔ اور بنو قابل کی 12 لاکھ رجسٹریشن میں سے 4 سے 5 لاکھ ہماری بچیاں ہیں۔ جو رجسٹرڈ ہوئیں ان میں سے بڑی تعداد نے ٹیسٹ دیئے اور پاس ہوئیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم صرف نظام پر تنقید نہیں کرتے بلکہ اس کے لیے لڑتے اور بات بھی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تجارتی بندش، مربوط حکمت عملی پاکستان کیلئے فائدہ مند
فلسطین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں فلسطین کی کی ماؤں بہنوں کو یاد کرتا ہوں۔ 80 ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور ابھی بھی ملبے کے ڈھیر سے لاشیں مل رہی ہیں۔ ان 80 ہزار لوگوں میں 70 فیصد بچے یا خواتین ہیں۔
