وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے دور حکومت میں بشریٰ بی بی اور ان کے ساتھ جڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے، پاکستان کے ساتھ ایک سنگین مذاق کیا گیا اور طاقت کے حصول کے لیے ایک عورت کو استعمال کیا گیا۔
نجی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ دی اکنامسٹ کی رپورٹ میں کی جانے والی تمام باتیں درست ہیں اور بشریٰ بی بی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کے لیے کام کرتی رہی ہیں، اور انہوں نے جو معلومات فراہم کی وہ چند دنوں میں درست ثابت ہوں گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور میں ایک منصوبہ بندی کے تحت بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی ہوئی، جس میں سے کچھ رقم پی ٹی آئی کے بانی کو دی گئی جبکہ باقی رقم بیرون ملک منتقل کی گئی۔
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی قیادت پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ پارٹی نے پنجاب جیسے صوبے کو سنگین نقصان پہنچایا۔
انہوں نے عدلیہ سے متعلق معاملات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور جنرل فیض عدلیہ اور عمران خان پر کنٹرول رکھتے تھے۔
انہوں نے بشریٰ بی بی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے دی اکنامسٹ کی رپورٹ کو “جھوٹ پر مبنی اور اشتعال انگیز” قرار دیا اور کہا کہ رپورٹ کا مقصد پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ کی بدنامی کرنا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ جھوٹے الزامات بشریٰ بی بی کو شکست نہیں دے سکتے اور قانونی کارروائی کے لیے بھی تیار ہیں۔

