پاکستان میں ملازمت پیشہ شوگر کے مریضوں کیساتھ ناروا سلوک میں خطرناک اضافہ


پاکستان میں ذیابیطس یعنی شوگر کے ساتھ زندگی گزارنے والے ہر 3 میں سے 2 ملازمین کو ان کے مرض کی وجہ سے کام کی جگہ پر منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی جانب سے جاری نئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر 2 میں سے ایک شوگر کے مریض نے ملازمت چھوڑنے کا بھی سوچا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ دفتر میں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوگا۔

عالمی سطح پر پاکستان میں ملازمت پیشہ شوگر کے مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ منفی رویے رکھنے والے ممالک میں پاکستان کے بعد دوسرا نمبر بھارت اور تیسرا نمبر امریکا کا ہے۔

نوکری چھوڑنے کا خیال

شوگر کے عالمی دن کے موقع پر جاری اس تحقیق میں انکشاف ہوا کہ 58 فیصد ملازمین نے اپنے مرض کی وجہ سے نوکری چھوڑنے کے بارے میں سوچا، جبکہ نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیبیٹیز ایجوکیٹرز کی صدر اور انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی نائب صدر ارم غفور نے اس صورتحال کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو کام کی جگہ پر بدنامی، تنہائی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

ضروری بریک بھی نہیں کر سکتے

تحقیق کے مطابق ٹائپ ون ذیابیطس کے 72 فیصد ملازمین اور ٹائپ ٹو کے 41 فیصد ملازمین نے منفی رویوں کی شکایت کی۔

نصف سے زائد ملازمین نے بتایا کہ انہیں اپنی بیماری کے باعث ضروری وقفوں یا وقت کی اجازت نہیں دی گئی، جو ان کی روزمرہ میڈیکل ضروریات میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ترقی کے رستے مسدود

رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ذیابیطس کا مرض نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھاتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بھی محدود کرتا ہے۔ 37 فیصد ملازمین نے کہا کہ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے ٹریننگ یا ترقی کے مواقع سے محروم رہے۔

اگرچہ مریضوں کے ایک بڑے حصے نے کام کی جگہ پر اپنا مرض چھپانے کی کوشش کی، لیکن ان میں سے نصف کو اس بات کا خوف تھا کہ انہیں الگ نظر سے دیکھا جائے گا، جبکہ 30 فیصد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر شوگر کا پتہ چل گیا تو انکی ترقی کا رستہ رک سکتا ہے۔

ملازمین کی بڑی تعداد صرف ایک یا دو قریبی ساتھیوں سے اپنی حالت کا ذکر کرتی ہے، اور بہت کم لوگ اس بارے میں اپنے ادارے کو باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کام کی جگہ پر معاون ماحول کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ روزمرہ میڈیکل معمولات، جیسے انسولین لگانا یاگلوکوز چیک کرنا، بھی دفتر میں کئی افراد کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث ہیں۔ 22 فیصد نے کہا کہ وہ کام کے دوران انسولین لینے سے ہچکچاتے ہیں جبکہ 16 فیصد شوگر چیک کرتے وقت پریشان رہتے ہیں۔

کام کی جگہ پر شوگر ایک چیلنج 

ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارنے والی ایجوکیٹر انعم انور نے کہا کہ کام کی جگہ پر ذیابیطس کو سنبھالنا ایک مشکل چیلنج ہے۔ ’’ہمیں چھوٹے وقفوں، کھانے کے مقررہ وقت اور خود نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور بعض اوقات ایسے اضافی سامان ساتھ رکھنا پڑتا ہے جو ہماری حالت کے لیے ضروری ہے۔‘‘

ارم غفور نے زور دیا کہ کوئی بھی ملازم اپنی بیماری کو اس خوف سے چھپانے پر مجبور نہ ہو کہ اسے مواقع سے محروم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق کام کے لچکدار اوقات، ذاتی جگہ اور سمجھ بوجھ پر مبنی تعاون جیسے اقدامات سے ماحول میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

شوگر کے عالمی دن کی مہم کے تحت انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن نے عالمی سطح پر آجرین پر زور دیا ہے کہ وہ دوستانہ ماحول پیدا کریں، صحت سے متعلق بات چیت کو محفوظ بنائیں، اور واضح پالیسیاں ترتیب دیں جو ذیابیطس کے مریض ملازمین کی ضروریات کا خیال رکھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ادارے نہ صرف اپنے ملازمین کی صحت کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری لاتے ہیں۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp