بہاولنگر: پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس دُلہا کو ہی اٹھا کر لے گئی۔
پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں مہندی کی تقریب کے دوران بلند موسیقی کی وجہ سے پولیس دُلہا اور اس کے دوست کو تقریب سے اٹھا کر لے گئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی پر دُلہا کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی جانب سے دُلہا اور اس کے دوست کو شادی کے لباس میں ہی گرفتار کرنے پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے دونوں کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔ اور دونوں کو رات تھانے میں ہی گزارنا پڑی۔
پولیس کارروائی کے دوران دلہا کے رشتے دار بار بار اہلکاروں سے درخواست کرتے رہے کہ گرفتاری نہ کی جائے تاہم پولیس نے تمام تردرخواستوں کو نظر انداز کر دیا۔
اگلے دن شادی کے روز پولیس نے دونوں کو جج کے سامنے پیش کیا۔ تو جج نے دلہا کو شادی کے لباس میں دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا۔ پولیس نے عدالت سے 14 روزہ عدالتی ریمانڈ کی درخواست کی۔ جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
دلہا کے وکیل نے عدالت مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے انتقام اور توجہ حاصل کرنے کے مقصد سے یہ کارروائی کی۔ جبکہ موسیقی بجانا کوئی جرم نہیں۔ شور مچانے کا قانون اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ ایسی تقریبات یا تقریریں روکی جا سکیں۔ جو مذہبی، فرقہ وارانہ یا صوبائی تنازعہ پیدا کر سکیں۔ نہ کہ ثقافتی جشن جیسے شادی کے مواقع کو ہدف بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا :سرکاری ملازمین کے تقرر، تبادلوں اور بھرتیوں پر عائد پابندی ختم
عدالت نے دونوں افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اس قانون کا مقصد عوامی امن و امان کو خطرے سے بچانا ہے۔ اور اسے سے شادی جیسے خوشی کے مواقع کو ہدف نہیں بنایا جا سکتا۔

